طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں پریشان کن کیوں ہیں؟


سخت گیر نظریات رکھنے والے طالبان مرحلہ وار اور منظم طریقے سے خواتین کے خلاف پالیسیاں مرتب کرتے جا رہے ہیں۔ ان میں لڑکیوں کے اسکول بند کرنا اور خواتین پراکیلے ہوائی سفر کی پابندی جیسے امور شامل ہیں۔

طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں پریشان کن کیوں ہیں؟
طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں پریشان کن کیوں ہیں؟
user

Dw

Engagement: 0

اگست 2021ء میں، جب سے طالبان اقتدار میں آئے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری سے افغان باشندوں کے لیے اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم طالبان حکومت کے پاس افغانستان کی معیشت کے زوال کو روکنے کا کوئی واضح حل نہیں ہے۔

طالبان نے مذہب کی بنیاد پر خواتین کے لیے ضابطہ اخلاق اور لباس کے نئے اور سخت قوانین لاگو کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اب خواتین کو فضائی سفر کرنے کے لیے بھی کسی مرد رشتے دار کی ہمراہی درکار ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی فضائی کمپنیوں کو لکھا گیا ہے کہ یہ قانون ملکی اور غیر ملکی پروازوں پر لاگو ہو گا۔ لیکن ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل کے فضائی اڈے پر خواتین کو اکیلے سفر کرتے دیکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کے افغانستان میں طالبان کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے برقع پہننے اور جسم کو مکمل ڈھانپنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش

طالبان نے حال ہی میں لڑکیوں کے ہائی اسکول بند کروا دیے اور ساتھ یہ بھی اعلان کیا تھا کہ طالبات کے لیے’مناسب لباس کے چناؤ‘ کے بعد یہ تمام اسکول دوبارہ کھولے جائیں گے۔ افغان سیاسی امور کے ماہر طارق فرہادی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نئی پابندیاں پرانے اور سمجھوتہ نا کرنے والے طالبان رہنماؤں نے لگائی ہیں۔‘‘سابق افغان صدر اشرف غنی کے مشیر فرہادی کا خیال ہے کہ طالبان کا یہ بنیاد پرست گروہ اندرونی طور پر طاقت کےحصول کی جدوجہد میں مشغول ہے۔

افغانستان کی بڑھتی معاشی بدحالی اور خوراک کا بحران

افغانستان کی معیشت بھی طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل بدحالی کا شکار ہے۔ جنگ سے متاثرہ یہ ملک معاشی طور پر طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے مستحکم ہونے میں ناکام رہا ہے اور اس کا بیرونی امداد پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلیپو گرانڈی کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت خوراک کے شدید مسائل کا شکار ہے۔ 38 ملین کی آبادی کے اس ملک میں 24 ملین لوگ خوراک، پانی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے بیرونی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

گرانڈی کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر مختلف امدادی تنظیموں کو انسانی ہمدردی کے کاموں اور سماجی پروگراموں کی مالی اعانت کے لیے تقریباً آٹھ بلین ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے افغان طالبان قیادت سے بھی بات چیت کی۔ تاہم امریکی حکومتی ارکان کی طرف سے دوحہ میں افغانستان کی قیادت سے طے شدہ ملاقات افغان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کے فیصلے کے بعد منسوخ کر دی گئی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران پر بات چیت کرنا تھا۔

ثریا پیکان، جو کابل یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کر چکی ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اگر طالبان افغان عوام پر دباؤ بڑھاتے رہے تو بین الاقوامی برادری اور طالبان کے درمیان محدود اور غیر رسمی روابط ختم ہو سکتے ہیں۔‘‘ پیکان نے کہا کہ طالبان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ بات چیت میں جان بوجھ کر لڑکیوں کی تعلیم جیسے بنیادی حق کو ایک سودے بازی میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’وہ اس حق کی فراہمی کو مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل ([email protected]) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

(Visited 4 times, 1 visits today)
Share this...
Share on Facebook
Facebook
0Tweet about this on Twitter
Twitter
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments