کرناٹک میں ملک کی سب سے بدعنوان حکومت کام کر رہی: راہل گاندھی


راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی الیکشن کے وقت بدعنوانی کی بات کرتے تھے، آج اگر مودی جی کرناٹک میں آ کر بدعنوانی کی بات کریں اور کہیں کہ میں بدعنوانی سے لڑنا چاہتا ہوں تو شاید پورا کرناٹک ہنسنے لگے

راہل گاندھی، تصویر ٹوئٹر @INCIndia
راہل گاندھی، تصویر ٹوئٹر @INCIndia
user

Engagement: 0

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کرناٹک کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ یہاں انھوں نے کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں سے ملاقات کی اور بنگلورو میں پارٹی لیڈروں کو خطاب بھی کیا۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور کرناٹک حکومت پر خوب حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پہلے پی ایم مودی انتخاب کے وقت بدعنوانی کی بات کرتے تھے، آج اگر مودی جی کرناٹک میں آ کر بدعنوانی کی بات کریں اور کہیں کہ میں بدعنوانی سے لڑنا چاہتا ہوں تو شاید پورا کرناٹک ہنسنا شروع کر دے گا اور وہ یہ بات ہندوستان میں کہیں نہیں کہہ سکتے ہیں۔‘‘

راہل نے کرناٹک کو پارٹی کے لیے فطری ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہمیشہ کانگریس پارٹی کی حمایت کا جذبہ رہا ہے۔ ہمارے من میں بہت واضح ہونا چاہیے کہ ہمیں 150 سے کم سیٹیں نہیں ملیں گی۔ ہم کرناٹک کو پھر سے ترقی کی راہ پر لائیں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ کرناٹک میں کون کام کر رہا ہے، یہ پتہ لگانا بہت آسان ہے۔ ہمیں ہمارے ٹکٹ کام کی بنیاد پر طے کرنا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ کون شخص پارٹی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمیں کانٹے کی ٹکر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا ہے، بلکہ حکومت بنانے کے لیے نتیجہ خیز ڈھنگ سے لڑنا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کا جو ہدف ہے وہ غریبوں کا پیسہ چھین کر 4-3 سب سے بڑے صنعت کاروں کے حوالے کرنے کا ہے۔ وہ بنیادی طور سے فنانشیل ٹرانسفر میکانزم ہیں۔ غریبوں سے پیسہ لو اور 4-2 صنعت کاروں کو دے دو، یہ ان کا سسٹم ہے۔ کانگریس لیڈر نے مہنگائی اور بے روزگاری کے ایشو پر بھی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک کے سامنے مہنگائی اور بے روزگاری کا سب سے بڑا ایشو ہے۔ نوٹ بندی، غلط جی ایس ٹی اور زرعی قوانین کے سبب ملک کو نقصان ہوا۔ آج ملک کی حالت یہ ہے کہ بی جے پی چاہ کر بھی ملک میں روزگار نہیں دے سکتی کیونکہ اسمال اور مائیکرو صنعتوں کو بی جے پی نے ختم کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل ([email protected]) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

(Visited 1 times, 1 visits today)
Share this...
Share on Facebook
Facebook
0Tweet about this on Twitter
Twitter
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments