کشمیری پنڈتوں کا جنتر منتر پر دھرنا ،نسل کشی بل کی منظوری کا مطالبہ


احتجاج میں شامل ایک 40 سالہ کشمیری مسلمان جہانگیر نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

Engagement: 0

کشمیری پنڈتوں نے جمعہ کو جنتر منتر پر نسل کشی کے قصورواروں کو سزا دینے کے مطالبے کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے نسل کشی بل کو فوراً پاس کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں سبھی عمر کے زمرے کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو علامت پرستی سے دور ہٹنا چاہئے اور 30 سال پہلے کشمیر ی پنڈتوں کی منتقلی کےلئے ذمہ دارلوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

کشمیر کمیٹی دہلی کے صدر سمیر چونگو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے سلسلے میں حقیقت میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو نسل کشی کا شکار ماناجائے۔

نوجوانوں کے گروپ کی قیادت کرنے والے ایک طالب علم نیل پنڈتا نے کہا کہ عدلیہ کو کشمیری پنڈتوں میں سے ایک کی طرف سے دائر کی گئی عرضی پر فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ قتل کے مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جا سکے اور ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف میں کسی قسم کی تاخیر انصاف کی فراہمی کے نظام پر نوجوانوں کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔

احتجاج میں شامل ایک 40 سالہ کشمیری مسلمان جہانگیر نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جہادیوں نے ہماری مساجد کو پنڈتوں کے خلاف استعمال کیا، ان کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا۔




Source link

(Visited 1 times, 1 visits today)
Share this...
Share on Facebook
Facebook
0Tweet about this on Twitter
Twitter
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments