1848ء پیرس کا انقلاب


قوم پرستی کی لہر یورپ کے ہر ملک میں آچکی تھی۔ جرمنی اور اٹلی اپنے ملکوں کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ صنعتی انقلاب نے ورکنگ کلاس کو مزید طاقتور بنا دیا تھا۔ عدم مساوات کے خاتمے کے لیے عوام میں سوشل ازم مقبول ہو رہا تھا اور اب لوگوں کا مطالبہ تھا کہ دستور کے ذریعے ان کو حقوق دیے جائیں اور حکمرانوں کو بھی دستور کے تحت لایا جائے، لہٰذا متوسط اور نچلا طبقہ سیاسی طور پر متحرک ہو چکا تھا۔

اگرچہ فرانس میں پرانے شاہی خاندان کو واپس لایا گیا مگر ان کی حکومت جلد ہی ناکام ہو گئی۔ 1830ء میں عوام کے مظاہروں نے Louis Phillip کو نیا بادشاہ بنایا۔ یہ جولائی مونار کی کہلاتا ہے، لیکن وہ جلد ہی اس کی حکومت سے بھی عاجز آگئے تھے۔ 1848ء میں انقلاب کی لہر پورے یورپ میں پھیل گئی۔ فرانس سے نکل کر انقلاب جرمنی، اٹلی، آسٹرو ہینگیرین ایمپائر میں شہر شہر ہنگامے شروع ہو گئے۔ انگلستان اور روس ان انقلابوں سے بچے رہے لیکن فرانس کے انقلاب نے سیاسی اور سماجی تبدیلیاں کیں جبکہ دوسرے یورپی ملکوں میں یہ انقلاب کامیاب نہیں ہو سکا۔

پیرس میں انقلاب کی ابتداء 22 فروری 1848ء میں ہوئی۔ اس موقع پر ریپبلکن پارٹی نے بڑا جلوس نکالا۔ جلوس کو روکنے کے لیے نیشنل گارڈز کا تعین کیا گیا جس کی وجہ سے مظاہرین اور نیشنل گارڈز میں تصادم ہوا، لیکن لوگوں کے مظاہرے ختم نہیں ہو سکے اور 23 فروری کی رات کو ایک بڑا جلوس نکالا گیا، جس پر نیشنل گارڈز نے فائرنگ کی اور اس میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعے نے پیرس کے عوام میں حکومت کے خلاف سخت غم و غصے کے جذبات کو اُبھارا۔ اس کے بعد بادشاہ نے یہ احکامات دیے کہ مظاہرین پر فائر نہ کی جائے اور ان سے مذاکرات کر کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، لیکن مذاکرات ناکام رہے اور 24 فروری کو جب ہجوم نے شاہی محل پر حملہ کیا تو نیشنل گارڈز لوگوں کے ساتھ مل گئے۔ محل کی حفاظت کرنے والے فوجیوں نے بھی کوئی فائرنگ نہیں کی اور مجمعے کو آزاد چھوڑ دیا۔ محل کے اندر بادشاہ اپنے خاندان اور محاصبوں کے ساتھ مشورے کر رہا تھا، لیکن جب حالات زیادہ بگڑے تو ایک صحافی نے آگے بڑھ کر لوئی فلپ سے کہا کہ ‘‘Your Majesty’’ بہتر یہ ہے کہ آپ تخت سے دستبردار ہو جائیں۔ اس کے سامنے بھی اور کوئی حل نہ تھا۔ اس لیے اس نے کپڑے تبدیل کیے اور باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہو گیا۔ بادشاہ لوئی فلپ نے انگلستان میں پناہ لی جہاں 1850ء میں اس کی وفات ہو گئی۔

بادشاہ کے فرار ہونے کے بعد مجمعے نے شاہی محل پر حملہ کر دیا۔ کچھ افراد شاہی تخت پر جا بیٹھے اور محل کے فرنیچر اور دوسری اشیاء کو توڑ پھوڑ دیا۔ یہ مجمعے کی طاقت کا مظاہرہ تھا، جس نے نہ صرف بادشاہت کو ختم کیا بلکہ نیشنل گارڈز کو اپنے ساتھ ملایا اور حکومت کے عہدیداروں کو بے بس کر دیا۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جو 1848ء کے انقلاب سے فرانس میں ظاہر ہوئی۔ اس نے عوام میں یہ اعتماد پیدا کیا کہ اگر وہ متحد ہو کر حکومت کا مقابلہ کریں تو وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ “Michael Rapport” نے اپنی کتاب (1848 : Year of Revobution) میں فرانس کے علاوہ دوسرے یورپی ملکوں میں ہونے والے انقلابات کی تفصیل دی ہے۔ یہ انقلاب آسٹریا میں اپنے ابتدائی دور میں کامیاب رہا۔ Matternich جو آسٹریا کے Chancellor تھے اور قدامت پرست کا سخت حامی تھے، وہ فرار ہو کر انگلستان چلے گئے۔ پروشیا کے بادشاہ نے بھی برلن چھوڑ دیا تھا، لیکن آخر میں انقلابی رہنمائوں میں تنازعات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے پرانا نظام پھر واپس آگیا، اگرچہ یہ انقلاب ناکام تو ہوا مگر اس نے عوام کے انقلابی جذبات کو ختم نہیں کیا۔

پیرس میں انقلاب کے اثرات فوراً ظاہر ہوئے۔ House of Dy`s نے عبوری حکومت کا اعلان کیا اور فرانس میں First Republic کا قیام عمل میں آیا۔ انقلاب نے ورکنگ کلاس کو سیاسی طور پر سرگرم کیا جس نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی۔ ورکنگ کلاس نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے کلب قائم کیے جن کی تعداد پیرس میں 200 کے قریب تھی۔ ان کلبوں میں ورکرز جمع ہوتے تھے جہاں سیاسی تقاریر ہوتی تھیں اور مختلف نظریات کے حامیوں نے اپنی پارٹیاں بنا لی تھیں اور ہر پارٹی ایک دوسرے سے زیادہ اپنے نعرے لگاتی تھی۔ ریاست نے ورکنگ کلاس کو مطمئن کرنے کے لیے یہ ذمہ داری لی کہ وہ ان کو روزگار فراہم کرے گی۔ روزگار نہ ہونے کی صورت میں انہیں گزارہ الائونس دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ورکنگ کلاس کے لیے نیشنل ورکشاپس کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور 25 فروری کو عبوری حکومت نے لیبر کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ لیبر کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ورکنگ کلاس کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے کام کے اوقات 15 گھنٹوں سے گھٹا کر 10 گھنٹے کیے جائیں اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور کسی بھی حادثے کی صورت میں ان کو معاوضہ دیا جائے۔ ٹریڈ یونینز سے پابندی اُٹھائی جائے۔ ان کے اور مالکوں کے درمیان موجود تنازعات کے بہتر حل کے لیے بات چیت ہونی چاہیے۔

اپریل میں بالغ رائے دہی کے تحت انتخابات ہوئے جس میں جاگیردار طبقے کے نمائندے کامیاب ہوئے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ قصبوں اور دیہات کے لوگوں نے جاگیرداروں کو ووٹ دیے، دوسرے عبوری حکومت کے قیام کے دو ماہ بعد یہ انتخابات ہوئے جس کی وجہ سے انقلابی جماعتیں اپنے پروگرام کو لوگوں تک نہ پہنچا سکیں۔ اس لیے پیرس کے انقلابیوں نے انتخابات کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور انتخاب کے دفتر پر حملہ کر کے اس کا ریکارڈ جلا دیا۔

4 جون 1848ء میں ہونے والے انتخابات میں Louis Napoleon جو نیپولین بونا پاٹ کے بھتیجے تھے۔ وہ صدر کے طور پر منتخب ہوگئے اور فرانس کو 2nd Republic ہونے کا اعلان کیا گیا۔ لوئی نیپولین اگرچہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے مگر انہوں نے بھی اپنے چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 1851ء میں بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔

کارل مارکس نے اپنی مختصر کتاب 18th Brumaire of Louis Bonaparte میں اس کی حکومت کا تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے کسانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے یہ اعلان کیا کہ انہیں قسطوں پر زمینیں دی جائیں گی۔ ابتداء میں کسان بہت خوش ہوئے لیکن جب قسطیں دینی پڑیں تو فصل کی خرابی یا دوسرے حالات کی وجہ سے جب وہ قسطیں نہ دے سکے تو ان کی زمینیں بھی گئیں اور قسطوں کی مدد سے سرمایہ دار طبقے نے کافی دولت اکٹھی کی۔ اس لیے نیپولین کا دور حکومت بھی ناکام رہا اور جب 1870ء میں اسے Sedan کے مقام پر جرمنی نے شکست دی تو اس نے بھی فرار ہو کر انگلستان میں پناہ لی اور 1871ء سے فرانس کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔



Source link

(Visited 5 times, 1 visits today)
Share this...
Share on Facebook
Facebook
0Tweet about this on Twitter
Twitter
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments